نئی دہلی،22؍دسمبر(آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ میں حق تعلیم ایکٹ 2009 (آر ٹی ای) کی بعض سیکشنز کے خلاف مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی ہے اور درخواست کی گئی ہے کہ ملک بھر کے تمام طلباء کے لیے یکساں کورسز کو اپنایا جائے۔ بی جے پی لیڈر اور ایڈوکیٹ اشونی اپادھیائے نے یہ مفاد عامہ دائرکیاہے۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ آر ٹی ای ایکٹ کی دفعہ ایک (چار) اور ایک (پانچ) آئین کی تشریح میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور مادری زبان میں یکساں نصاب کا نہ ہونا جہالت کو فروغ دیتا ہے۔اس پر عمل درآمد کرناوفاق کافرض ہے۔ تعلیمی نظام یہ اس لازمی ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس نے 2005 سے پہلے سے موجود قومی نصابی خاکہ (NCF) کو اپنایا ہے۔مرکزی حکومت نے مدارس اسلامیہ،ویدک پاٹھ شالاؤں،اورمذہبی تعلیم دینے والے اداروں کوتعلیمی سہولیات سے محروم کرنے کے لیے دفعہ ایک (چار) اور ایک (پانچ) داخل کیے ہیں۔ درخواست گزاروں کاکہناہے کہ یہ دفعات نہ صرف آرٹیکل 14، 15، 16، 21، 21 اے کی خلاف ورزی کرتی ہیں بلکہ دفعہ 38، 39 اور 46 اورآئین ہندکی تمہیدکے بھی خلاف ہیں۔ طلباء کو یکساں مواقع فراہم کرناچاہیے کیونکہ معاشرے کے ہر طبقے کے لیے ایک الگ نصاب ہے۔درخواست میں کہاگیاکہ بچے کا حق صرف مفت تعلیم تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ بچے کے سماجی، اقتصادی اور ثقافتی پس منظر کی بنیاد پر بغیر کسی امتیاز کے یکساں معیاری تعلیم کا حقدار ہونا چاہیے۔درخواست میں کہاگیاہے کہ بچے کا حق صرف مفت تعلیم تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ بچے کے سماجی، اقتصادی اور ثقافتی پس منظر کی بنیاد پر بغیر کسی امتیازکے یکساں معیاری تعلیم کا حقدار ہونا چاہیے۔ لہٰذا، عدالت دفعہ 1 (iv) اور 1 (v) کو من مانی، غیر معقول اور آرٹیکل 14، 15، 16 اور 21 کی خلاف ورزی قرار دے سکتی ہے اور مرکز کو حکم دے سکتی ہے کہ وہ پہلی سے آٹھویں جماعت کے طلباء پر یکساں نصاب لاگو کرے۔